سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے 5 تا 30 فیصد کٹوتی
حکومتی نمائندے بورڈز میں شرکت کی فیس نہیں لینگے ،تیل میں 50 فیصد کٹوتی ،60فیصد گاڑیاں بند کرنے کے فیصلے کا تھرڈ پارٹی آڈٹ ہوگا،بیرونی دوروں پر پابندی برقرار 23 مارچ کی سادگی کیساتھ تقریبات،قانون نافذ کرنیوالے اداروں ،ایف بی آر پر 4دن کام کا اطلاق نہ ہوگا،تنخواہ کٹوتی سے 10ارب جمع،عوامی ریلیف پرخرچ ہونگے :شہباز شریف
اسلام آباد( سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومتی بچت اقدامات کے تحت سرکاری اور حکومتی سرپرستی میں خود مختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں سے 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی، ملازمین کی تنخواہوں سے بتدریج کٹوتی کو عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس میں وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ،محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں خطے کی صورتحال کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر اثر اور حکومتی بچت اقدامات کے نفاذ کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کو بتایا گیا کہ حکومتی بچت اقدامات سے حاصل شدہ رقوم کو موجودہ حالات میں عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا۔تمام کفایت شعاری کے اقدامات سے کی گئی بچت عوامی ریلیف کیلئے ہی استعمال ہو گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح سرکاری ملکیتی اداروں اور حکومتی سرپرستی میں خودمختار اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں سے درجہ بدرجہ 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی جسے عوامی ریلیف کیلئے استعمال کیا جائے گا۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر اداروں کے بورڈز میں موجود حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائے گا۔وزیرِ اعظم نے دنیا بھر میں موجود تمام پاکستانی سفارتخانوں کو 23 مارچ کی تقریبات کو انتہائی سادگی سے منانے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتے میں 4 دن کام کا اطلاق نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے ۔ آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا۔ اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاونین خصوصی کی تنخواہوں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کیلئے استعمال کیا جائے گا۔وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بھی اجلاس کو آگاہی دی گئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سرکاری افسروں ، وزراء، وزرائے مملکت اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر مکمل پابندی پر عائد رہے گی، ان تمام سادگی اور کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عملدرآمد اور نگرانی متعلقہ سیکرٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے ۔وفاقی سرکاری اور حکومتی ملکیتی اداروں کے پانچ لاکھ سے زیادہ ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں ممکنہ کٹوتیوں سے 10 ارب روپے تک جمع ہو نگے ۔ سرکاری و حکومتی ملکیتی اداروں کے گریڈ 1 سے 22 تک ملازمین کی مدت ملازمت اور بنیادی تنخواہ کے مطابق کم از کم 5 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کٹوتی ہوگی۔تخمینہ کے مطابق گریڈ 1 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 407 روپے جبکہ زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 7 ہزار 935 روپے بنتی ہے ۔ گریڈ 2 کے ملازمین کے لیے کم از کم 5 فیصد کٹوتی 415 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 8 ہزار 556 روپے ہے ۔ گریڈ 3 کے لیے یہ کٹوتی بالترتیب 428 روپے اور 9 ہزار 678 روپے جبکہ گریڈ 4 کے لیے 441 روپے اور 10 ہزار 707 روپے بنتی ہے ۔
گریڈ 5 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 457 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 11 ہزار 949 روپے بنتی ہے ۔ گریڈ 6 کے لیے یہ کٹوتی 473 روپے اور 12 ہزار 921 روپے جبکہ گریڈ 7 کے لیے 489 روپے اور 13 ہزار 893 روپے بنتی ہے ۔ گریڈ 8 کے ملازمین کے لیے کم از کم 5 فیصد کٹوتی 507 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 15 ہزار 237 روپے بنتی ہے جبکہ گریڈ 9 کے لیے 524 روپے اور 16 ہزار 401 روپے ہے ۔ گریڈ 10 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 542 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 17 ہزار 745 روپے بنتی ہے ۔گریڈ 11 کے لیے یہ کٹوتی 560 روپے اور 19 ہزار 185 روپے جبکہ گریڈ 12 کے لیے 593 روپے اور 20 ہزار 961 روپے ہے۔ گریڈ 13 کے ملازمین کے لیے کم از کم 5 فیصد کٹوتی 634 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 22 ہزار 989 روپے جبکہ گریڈ 14 کے لیے یہ کٹوتی 676 روپے اور 25 ہزار 209 روپے بنتی ہے ۔
گریڈ 15 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 723 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 27 ہزار 930 روپے بنتی ہے جبکہ گریڈ 16 کے لیے یہ کٹوتی 842 روپے اور 32 ہزار 181 روپے ہے ۔گریڈ 17 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 1 ہزار 352 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 34 ہزار 41 روپے بنتی ہے ۔ گریڈ 18 کے ملازمین کے لیے 5 فیصد 1 ہزار 706 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد 42 ہزار 624 روپے بنتی ہے جبکہ گریڈ 19 کے لیے 2 ہزار 646 روپے اور 52 ہزار 497 روپے بنتی ہے ۔ گریڈ 20 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 3 ہزار 89 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 59 ہزار 745 روپے بنتی ہے ۔ گریڈ 21 کے لیے یہ کٹوتی 3 ہزار 414 روپے اور 66 ہزار 267 روپے جبکہ گریڈ 22 کے ملازمین کی کم از کم بنیادی تنخواہ سے 5 فیصد کٹوتی 3 ہزار 666 روپے اور زیادہ سے زیادہ 30 فیصد کٹوتی 73 ہزار 575 روپے بنتی ہے ۔