55 روپے اور درانتی کی واپسی
تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ قوموں کے زوال کا آغاز ہمیشہ کسی ایک بڑے حادثے سے نہیں ہوتا بلکہ چھوٹے چھوٹے معاشی فیصلوں سے ہوتا ہے جو رفتہ رفتہ عوام کی کمر توڑ دیتے ہیں۔ پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ پچپن روپے کا اضافہ بھی بظاہر ایک معاشی فیصلہ ہے، مگر اس کے اثرات محض ایندھن کی قیمت تک محدود نہیں رہتے۔ یہ فیصلہ دراصل اس پورے معاشی ڈھانچے کو ہلا دیتا ہے جس پر ایک عام پاکستانی کی روزمرہ زندگی قائم ہے۔یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ملک پہلے ہی شدید معاشی دباؤ میں ہے۔ مہنگائی کی شرح بلند ہے، بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور متوسط طبقہ تیزی سے سکڑ رہا ہے۔ ایسے میں جب پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ جاتا ہے۔پاکستان جیسے ملک میں پٹرول دراصل معیشت کی رگوں میں دوڑنے والے خون کی مانند ہے۔ جب اس کی قیمت بڑھتی ہے تو ٹرانسپورٹ مہنگی ہو جاتی ہے، باربرداری کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور یوں منڈی تک پہنچنے والی ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔ سبزیاں، پھل، آٹا، دالیں، دودھ اور روزمرہ زندگی کی بے شمار اشیاء کی قیمتیں چند ہی دنوں میں بڑھنے لگتی ہیں۔ ادویات مہنگی ہو جاتی ہیں، تعلیمی اخراجات میں اضافہ ہو جاتا ہے اور سفری کرایے عام آدمی کے بجٹ کو تہس نہس کر دیتے ہیں۔مگر اس معاشی فیصلے کا سب سے بڑا اثر پاکستان کے کسان پر پڑتا ہے۔ وہ کسان جو زمین سے اناج اگاتا ہے، جو اس ملک کی غذائی سلامتی کا ضامن ہے، وہی سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہو جاتا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں گندم، چاول، کپاس اور گنے کے کاشتکار پہلے ہی شدید نقصان اٹھا چکے ہیں۔ زرعی مداخل کی قیمتیں مسلسل بڑھتی جا رہی ہیں جبکہ فصلوں کے نرخ کسان کی لاگت کے مقابلے میں انتہائی کم رہ گئے ہیں۔کھاد، بیج، زرعی ادویات اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے کاشتکاری کو ایک مشکل اور غیر یقینی پیشہ بنا دیا ہے۔ کسان لاکھوں روپے خرچ کر کے فصل اگاتا ہے مگر جب وہ فصل منڈی میں پہنچتی ہے تو اسے وہ قیمت نہیں ملتی جو اس کی لاگت بھی پوری کر سکے۔ دوسری طرف وہ مڈل مین اور بڑے خریدار جو منڈی کے نظام پر قابض ہیں، وہی اس محنت کا اصل فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ اس بحران کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے کا مطلب ہے کہ ٹریکٹر چلانا مہنگا ہو گیا، ٹیوب ویل کا خرچ بڑھ گیا اور زرعی مشینری کا استعمال مشکل ہو گیا۔ ایسے میں کسان کے لیے جدید مشینی کاشت جاری رکھنا آسان نہیں رہتا۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے۔ ہم ترقی، جدیدیت اور صنعتی زراعت کے دعوے تو بہت کرتے ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ کسان دوبارہ ماضی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک ایسا ماضی جہاں کھیتوں میں مشینوں کی جگہ بیلوں سے ہل چلایا جاتا تھا اور فصل کی کٹائی کمبائن کے بجائے درانتی سے کی جاتی تھی۔یہ صورتحال صرف دیہات تک محدود نہیں۔ شہروں میں رہنے والا مزدور، دکان دار اور متوسط طبقہ بھی اسی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ تنخواہیں وہی رہتی ہیں مگر اخراجات بڑھتے جاتے ہیں۔ گھر کا بجٹ بکھر جاتا ہے اور لوگ اپنی بنیادی ضروریات میں بھی کٹوتی کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔حکومت کی جانب سے اس صورتحال میں کچھ کفایت شعاری کے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔ سرکاری اخراجات کم کرنے، توانائی بچانے اور انتظامی اصلاحات کی بات کی گئی ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ اقدامات اس بڑے معاشی بوجھ کے مقابلے میں کافی ہیں جو عوام پر منتقل ہو چکا ہے؟پاکستان کی معاشی تاریخ کا المیہ یہی ہے کہ یہاں بحرانوں کا بوجھ ہمیشہ عوام اٹھاتے ہیں جبکہ فوائد محدود طبقوں تک محدود رہتے ہیں۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا جواز پیش کر کے عوام پر بوجھ ڈال دیا جاتا ہے، مگر جب قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا پورا فائدہ عوام تک منتقل نہیں کیا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں مایوسی اور بے یقینی بڑھتی جا رہی ہے۔ عام آدمی یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر اس معاشی نظام میں اس کے لیے جگہ کہاں ہے؟حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک مضبوط نہیں ہو سکتا جب تک اس کی معاشی پالیسیوں کا مرکز عام آدمی نہ ہو۔ زراعت کو مضبوط بنانا، کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ دینا اور توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستانی قوم نے ہمیشہ مشکلات کا سامنا حوصلے سے کیا ہے، مگر مسلسل بڑھتے ہوئے معاشی بوجھ نے اب اس حوصلے کو بھی آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ پچپن روپے کا اضافہ محض ایک عدد نہیں بلکہ ایک ایسا بوجھ ہے جو لاکھوں خاندانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے۔اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو بعید نہیں کہ جدید معیشت کے دعووں کے باوجود کسان کو واقعی درانتی اٹھانی پڑے اور بیل گاڑی کے سہارے کھیتی باڑی کی طرف واپس جانا پڑے۔ اور اگر ایسا ہوا تو یہ صرف کسان کا نہیں بلکہ پوری قومی معیشت کا المیہ ہوگا۔