رمضان المبارک، روحانی تربیت کا مہینہ
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود
رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کے لیے روحانی تربیت، تقویٰ، صبر اور ایثار کا مہینہ ہوتا ہے۔ یہ وہ مقدس ایام ہیں جن میں مسلمان اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں، عبادات میں اضافہ کرتے ہیں، قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم دیانتداری سے اپنے معاشرے کے حالات کا جائزہ لیں تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم نے اسلام کو صرف ظاہری عبادات تک محدود کر دیا ہے جبکہ اس کی روح، یعنی اخلاق، برداشت، دیانت اور انسانیت کہیں گم ہوتی جا رہی ہے۔ علامہ اقبال کا یہ شعر دراصل اسی المیے کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ اگر مسلمانوں کے حالات، کردار اور معاشرتی رویوں کو دیکھا جائے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے نہ صرف اپنی شناخت کھو دی ہے بلکہ ہمارا طرزِ عمل ایسا ہو چکا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہمیں دیکھ کر حیران رہ جائیں۔رمضان المبارک صبر اور برداشت کا درس دیتا ہے۔ روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کو اپنے نفس پر قابو پانے کی تربیت دیتا ہے۔ لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج ہم اسی رمضان میں معمولی باتوں پر لڑائی جھگڑے کرتے نظر آتے ہیں۔ کہیں افطاری کے دسترخوان پر کھانے کے چند لقموں کے لیے دھکم پیل ہو رہی ہے، کہیں لوگ ایک دوسرے کو دھکے دے رہے ہیں، کہیں قطاروں میں کھڑے ہو کر صبر کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔ یہ وہ مناظر ہیں جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ہم نے روزے کی اصل روح کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ اسی طرح مساجد جو کہ عبادت، سکون اور روحانیت کے مراکز ہونے چاہئیں، بعض اوقات وہاں بھی اختلافات اور تلخیوں کا ماحول دیکھنے کو ملتا ہے۔ کہیں تراویح میں امام کی تلاوت زیادہ ہونے پر اعتراض کیا جاتا ہے تو کہیں کم ہونے پر بحث شروع ہو جاتی ہے۔ بعض جگہوں پر معمولی اختلافات اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ مسجد کے اندر ہی جھگڑے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے عبادت کو بھی برداشت اور احترام کے بجائے انا اور ضد کا مسئلہ بنا لیا ہے۔معاشرے میں ایک اور انتہائی افسوسناک پہلو وہ ہے جب مذہبی یا تعلیمی اداروں سے اخلاقی بدعنوانی کی خبریں سامنے آتی ہیں۔ اگر کہیں کسی استاد یا قاری کی طرف سے بچوں کے ساتھ بدسلوکی یا غیر اخلاقی رویے کی اطلاع ملتی ہے تو یہ صرف ایک فرد کا جرم نہیں ہوتا بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنگین سوال بن جاتا ہے۔ ایسے واقعات معاشرے کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں اور دین کے نام پر قائم اداروں کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسے معاملات میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائے سخت احتساب اور اصلاح کا عمل شروع کیا جائے تاکہ آئندہ ایسی حرکتوں کی روک تھام ہو سکے۔اسی طرح غربت اور بے بسی بھی ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ بن چکی ہے۔ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو بعض لوگ مجبور ہو کر امداد اور خیرات کے لیے قطاروں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس سے بھی زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ بعض اوقات اس امداد کو دینے کا انداز ایسا ہوتا ہے جس سے لوگوں کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ اسلام نے تو صدقہ و خیرات کو خفیہ طور پر دینے کی تلقین کی تھی تاکہ لینے والے کی عزت برقرار رہے، مگر آج ہم نے اسے تشہیر اور دکھاوے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ہمارا مسئلہ دین کی کمی نہیں بلکہ عمل کی کمی ہے۔ ہمارے گھروں میں قرآن موجود ہے، مساجد آباد ہیں، مدارس بھی ہیں اور علماء بھی، مگر اگر ان سب کے باوجود معاشرے میں دیانت، انصاف، اخلاق اور انسانیت کم ہوتی جا رہی ہے تو ہمیں خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسان کے ہر عمل، ہر رویے اور ہر تعلق کو بہتر بنانے کی تعلیم دیتا ہے۔ سچ بولنا، انصاف کرنا، کمزوروں کا خیال رکھنا، خواتین اور بچوں کی عزت و حفاظت کرنا، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا—یہ سب بھی اتنے ہی اہم اسلامی اصول ہیں جتنی نماز اور روزہ۔آج ہمیں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں حقیقی اسلامی تعلیمات کو اپنائیں۔ ہمیں اپنے گھروں سے اصلاح کا آغاز کرنا ہوگا۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کی اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے لیے کردار اور اخلاق کا نمونہ بنیں۔ علماء اور مذہبی رہنماؤں کو چاہیے کہ وہ دین کے اصل پیغام یعنی اخلاق، برداشت اور انسانیت کو عام کریں۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ بہتر ہو تو ہمیں صرف دوسروں کو نہیں بلکہ سب سے پہلے خود کو بدلنا ہوگا۔ کیونکہ معاشرے کی اصلاح فرد کی اصلاح سے ہی شروع ہوتی ہے۔رمضان المبارک ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں، اپنی کمزوریوں کو پہچانیں اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔ اگر ہم نے اس مہینے کی برکتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے کردار کو بہتر بنا لیا تو یہی رمضان ہمارے لیے حقیقی کامیابی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ورنہ محض مسلمان کہلانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ اسلام نام کا نہیں بلکہ کردار اور عمل کا دین ہے۔ اور جب تک ہمارے کردار میں اسلام کی جھلک نظر نہیں آئے گی، تب تک ہم صرف نام کے مسلمان ہی رہیں گے۔