سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی فریاد کب سنی جائے گی؟
مہنگائی اب کوئی خبر نہیں رہی، ایک مستقل عذاب بن چکی ہے۔ ڈالر کی بے قابو اُڑان اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے عام آدمی کی کمر توڑی ہے مگر سب سے زیادہ پسنے والا طبقہ سرکاری ملازمین کا ہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو نہ احتجاج کی قوت رکھتا ہے اور نہ ہی آمدنی بڑھانے کے اختیارات اس کے پاس ہیں۔کبھی یہ ممکن تھا کہ سرکاری ملازم مہینے بھر کا گزارا ادھار پر کر لیتا تھا۔ محلے کی دکانوں پر کھاتے چلتے تھے، عزت بھی برقرار رہتی تھی اور نظامِ زندگی بھی اپنی ڈگر پر رساں رہتا تھا مگر آج مہنگائی نے ان سے نہ صرف قوتِ خرید چھین لی ہے بلکہ اعتماد کا رشتہ بھی توڑ دیا ہے۔ دکاندار ادھار دینے سے کتراتے ہیں کیونکہ روپے کی قدر روز بروز گرتی جا رہی ہے۔ یوں ایک خاموش معاشی بحران نے سفید پوش طبقے کو بے بسی کی انتہا تک پہنچا دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں جامد ہیں جبکہ اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ ہاؤس رینٹ الاؤنس آج بھی پرانے پے سکیلز کے مطابق دیا جا رہا ہے جو مکانات کے موجودہ کرایوں کے سامنے مذاق محسوس ہوتا ہے۔ دو سے چار ہزار روپے میں آج کے دور میں کیا ممکن ہے؟ ایک کمرہ بھی اس رقم میں دستیاب نہیں۔ اسی طرح میڈیکل الاؤنس محض ایک رسمی سہولت رہ گیا ہے جو کسی ایک ڈاکٹر کی فیس سے آگے نہیں بڑھ پاتا۔ ادویات کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور سرکاری ملازم بیماری سے زیادہ علاج کے خرچ سے خوفزدہ ہے۔معاشرے کے دیگر طبقات کم از کم اپنی آمدنی کو مہنگائی کے مطابق ایڈجسٹ تو کر لیتے ہیں۔ تاجر قیمتیں بڑھا دیتا ہے، مزدور اپنی اجرت میں اضافہ کر لیتا ہے لیکن سرکاری ملازم ہمیشہ ایک فائل اور نوٹیفکیشن کا محتاج رہتا ہے۔ اس کی تنخواہ میں اضافہ ایک سیاسی فیصلہ ہوتا ہے جو اکثر تاخیر کا شکار رہتا ہے یا مہنگائی کے تناسب سے بہت کم ہوتا ہے۔گھر چلانا اب ایک کڑا امتحان بن چکا ہے۔ بچوں کی تعلیم، علاج، روزمرہ ضروریات اور سماجی ذمہ داریاں اب ایک بوجھ کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ خوشی کے مواقع بھی پریشانی بن گئے ہیں اور شادی جیسے فریضے قرض کے بوجھ تلے دب کر ادا کیے جاتے ہیں۔ بعض اوقات تو بیٹیاں صرف اس لیے گھروں میں بیٹھی رہ جاتی ہیں کہ والدین کے پاس وسائل نہیں ہوتے۔ماضی میں بعض ادوار میں سرکاری ملازمین کو ریلیف دینے کی کوشش کی گئی مگر حالیہ برسوں میں مہنگائی کی رفتار نے ہر اضافہ بے اثر کر دیا ہے۔ تنخواہوں میں معمولی اضافے، مراعات میں کٹوتی اور الاؤنسز کی عدم دستیابی نے حالات کو مزید گمبھیر بنا دیا ہے۔ خاص طور پر صوبوں اور مرکز کے درمیان پالیسیوں کا تضاد ملازمین کے احساسِ محرومی میں اضافہ کر رہا ہے۔اگر پنشنرز کی بات کی جائے تو ان کی حالت تو اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ عمر بھر کی خدمت کے بعد ملنے والی پنشن اب بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے بھی ناکافی ہے۔ مہنگائی کی یہی رفتار رہی تو یہ طبقہ مکمل طور پر معاشی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ ان کے لیے طبی سہولیات اور مالی تحفظ نہایت ضروری ہیں، مگر عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔آج جب سرکاری ملازمین اپنی آواز بلند کرنے کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں تو یہ صرف ایک طبقے کا مسئلہ نہیں، بلکہ ریاستی ترجیحات پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر ریاست اپنے ملازمین کو ہی بنیادی سہولیات فراہم نہ کر سکے تو کارکردگی، دیانتداری اور نظام کی بہتری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟ وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اس مسئلے کا ادراک کرے۔ تنخواہوں اور پنشن میں مہنگائی کے تناسب سے خاطر خواہ اضافہ، ہاؤس رینٹ اور میڈیکل الاؤنسز کی ازسرِ نو ترتیب، اور مراعات کی بحالی جیسے اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ سرکاری ملازمین کسی رعایت کے نہیں، انصاف کے طلبگار ہیں اور انصاف میں تاخیر درحقیقت ناانصافی ہی ہوتی ہے۔