مقصد ہو اگر تربیت لعل _ بدخشاں
سوچ و فکر کا حامل اور علم و طلب ایجاد طلب ہوگا
وہ قوم و ملت دیگر اقوام و ملل سے بہت آگے نکل جائے گی
پاکستان میں اور
بالخصوص پنجاب میں تعلیم و تربیت کے نظام کو
محض پیسوں کی بچت کی خاطر مختلف تجربات کی تجربہ گاہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے
پنجاب میں تعلیم کا بجٹ 811 ارب روپے ہے
جو بہت ہی کم ہے اسے
کم از کم دو ہزار ارب روپے سے زیادہ ہونا چاہیے
جو دیگر صوبوں سے تو زیادہ ہے
لیکن جس بے دردی سے پنجاب کے تعلیم و تربیت کے نظام کو پرائیویٹائزیشن کی طرف دھکیلا جا رہا ہے
اس سے پنجاب میں جاری تعلیم و تربیت کے نظام کو سخت دھچکا پہنچا ہے
معمولی مشاہرہ پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کیسے بھرپور طریقے سے پاکستان کی تعلیم و ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتے ہیں
حالت تو یہ ہے کہ پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ کو آج تک اولڈ ایج بینیفٹ تک کے لیے اہل نہیں شمار نہیں کیا جاتا
ایک عام انڈسٹری کے ایک عام مزدور کو تو سوشل سیکورٹی
اولڈ ایج بینیفٹ اور دیگر مزدوروں کے حقوق تو حاصل ہیں
مگر پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ اس معمولی تحفظ سے بھی مسلسل محروم ہیں
پھر ان پرائیویٹ سکولوں کی وجہ سے پنجاب کے عوام تیزی سے نظریاتی، فکری اور عملی تعلیم و تربیت سے محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں
پاکستانی قوم چھوٹے اور بند کمروں کے سکولوں کی طرح چھوٹے ذہن والی بنتی چلی جا رہی ہے
پرائیویٹ سکولوں میں موجود تنگ و تاریک ، ہوا اور روشنی کے نظام سے محروم کمروں میں اور کھیلوں کے میدانوں سے دور تعلیم و تربیت کے عمل سے گزرنے والے طلباء و طالبات وسعت نظری و فکری سے قطعا" محروم ہوتے چلے جا رہے ہیں
پاکستان کے عوام کے بچوں کے والدین کی طرح طلباء کے اذہان میں بھی صرف روٹی روزی کے حصول کا ہی خیال ہے
سیادت _ کائنات کے حصول کے لیے سوچنے کی بھی کوئی گنجائش نہیں رکھی جا رہی
پاکستان اور تعمیر مسلم امہ کے لیے ان کے قلوب میں کسی قسم کی کوئی شمع روشن نہیں کی جا سکی ہے
پنجاب کے 811 ارب روپے کا بجٹ جس میں 100 ارب روپے سکول ایجوکیشن کے لیے ہیں 39 ارب
ہائر ایجوکیشن کے لیے اور110 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے اور پنجاب کے نوجوانوں کے لیے 30 ارب کے لیپ ٹاپ اور شکالرشپس کی مد رکھے گئے ہیں
سکول ایجوکیشن کے 100 ارب روپے ہائر ایجوکیشن کے 39 ارب روپے تعلیم کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 110 ارب روپے لیپ ٹاپ سکیم اور سکالرشپ کے لیے تیس ارب روپے سکول میل پروگرام کے لیے سات ارب روپے رکھے گئے ہیں
ان میں سب سے زیادہ پراگریسیو پروگرام لیپ ٹاپ سکیم کا ہے پنجاب اور پاکستان کے طلباء کو اگر نظریاتی تعلیم کے ساتھ ساتھ اگر بے شمار مواقع آئی ٹی کے میدان میں فراہم کیے جائیں تو پنجاب اور پاکستان کے نوجوان پوری دنیا پر حکومت کرنے کے قابل بن سکتے ہیں
یہ تمام رقومات بھی پوری طرح تعلیمی مد میں خرچ نہیں ہو پاتیں
تعلیم کا تعلیمی بجٹ کی رقومات ناخرچ ہوسکنے کی وجہ سے واپس پنجاب حکومت کو چلی جاتی ہیں
جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب سمیت پورے پاکستان میں تعلیم و تربیت کے نظام کے لیے سب سے زیادہ بجٹ مختص کیا جایے
کیونکہ یہ نظام تعلیم و تربیت ہی ہے جو
قوموں اور ملکوں کو دوسری اقوام و ممالک سے ممتاز کرتا ہے
ملک کے تمام شعبوں کو تعلیم و تربیت کے نظام ہی سے گزر کر آنے والے افراد کو تعینات ہونا ہوتا ہے
اگر ان کی افراد کی پاکستان کے عشق و محبت کے تناظر میں تعلیم و تربیت مکمل نہیں ہوگی
تو وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار کبھی بھی ادا نہیں کر سکیں گے
اگر پاکستان کو طاقتور ترین، مستحکم ترین اور محفوظ ترین بنائے رکھنا ہے
تو پاکستان کے تعلیم و تربیت کے نظام کو بہترین محب الوطن اساتذہ کے حوالے کرنا ہوگا
ایسے اساتذہ جو ہر قسم کی تفکرات و پریشانیوں سے دور ہو کر صرف پاکستان کی تعمیر کے لیے
پاکستان کے عشق سے بھرپور معمار تیار کریں
اور یہ معماران قوم پاکستان کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مضبوط ترین بناتے چلے جائیں
حضرت علامہ محمد اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا
"مقصد ہو اگر تربیت _ لعل بدخشاں
بے سود ہے بھٹکے ہوئے خورشید کا پرتو
دنیا ہے روایات کے پھندوں میں گرفتار
کیا مدرسہ ؟ کیا مدرسہ والوں کی تگ و دو؟
کر سکتے تھے جو اپنے زمانے کی امامت
وہ کہنہ دماغ اپنے زمانے کے ہیں پیرو"
حقیقت یہ ہے کہ ہر سچا پاکستانی اور پکا مسلمان دنیا کی سیادت دنیا میں امن و امان اور دین الہی یعنی دین اسلام کی سر بلندی کے لیے پیدا ہوتا ہے