سرائیکی قوم کو صوبے کا حق دیا جائے:رانا فراز نون
ملتان(سٹی رپورٹر)سرائیکی قوم کو صوبے کا حق دیا جائے۔ وسیب کے لوگوں کو پاکستانی سمجھا جائے۔ وسیب کے لوگ پنجاب و خیبرپختونخواہ کے ساتھ اچھے ہمسائے کے طو رپر تو رہ سکتے ہیں، غلام بن کر قطعاً نہیں۔ اپنے حقوق لینے کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین سرائیکستان ڈیمو کریٹک پارٹی رانا محمد فراز نون نے شاہ نواز خان مشوری سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر سینئر رہنما ایس ڈی پی اجمل مسن بھی موجود تھے۔ رانا محمد فراز نون نے کہا کہ سرائیکی وسیب و قوم سے بنگالیوں والا سلوک کب بند ہو گا؟ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے لاہور کو اَن گنت بڑے منصوبے دئیے ہیں جن کی مالیت کھربوں میں جبکہ سرائیکی وسیب کو کوئی بڑا منصوبہ نہیں دیا گیا، وسیب کی سڑکیں موہنجو داڑو کا نقشہ پیش کر رہی ہیں۔ سرائیکستان میں حالت یہ ہے کہ موٹرویز تو کیا، کھیت سے منڈی تک سڑکیں بھی نہیں بنائی گئیں۔ پورے سرائیکستان میں اتنے ہسپتال نہیں جتنے ایک شہر لاہور میں ہیں۔ (ن) لیگ، پیپلز پارٹی کے پاس صوبہ بنانے کی کوئی وجہ موجود نہیں، اتحادی وعدہ پورا کریں۔ شاہ نواز خان مشوری نے کہا کہ وسیب کی شناخت کو دنیا کی کوئی طاقت نہیں مٹا سکتی ، وہ وقت دور نہیں جب وسیب کے لوگ اپنا صوبہ اور اپنے حقوق حاصل کرینگے ۔ سرائیکی وسیب کے ساتھ بنگالیوں سے بد تر سلوک ہو رہا ہے، وسیب میں جب سیلاب سے تباہی آتی ہے تب بھی کچھ دینے کی بجائے حکمران غیر ملکی امداد کے نام پر اپنی جیبیں بھرتے ہیں، وسیب میں سیلاب متاثرین کی آج تک بحالی نہیں ہو سکی۔ اجمل مسن نے کہا کہ وسیب میں ہسپتال نہیں، بیروزگاری سے لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ، وسیب کے کاشتکاروں کو تباہ و برباد کر دیا گیا ہے، روزانہ کی بنیاد پر وسیب کے لوگ بھاری ٹیکسز کی صورت میں تخت اسلام آباد اور تخت لاہور کو اربوں روپے ریونیو بھجوا رہے ہیں اس کے بدلے وسیب کو ذلت ، محرومی ، محکومی اور بیروزگاری کے سوا کچھ نہیں مل رہا۔ وسیب سے غیر منصفانہ امتیازی سلوک بند کرنا ہوگا اور وسیب کو ان کا حق صوبہ سرائیکستان دینا ہوگا۔
