کالمز
تاریخ اشاعت:

دینی مدارس اسلام کے قلعے

 دینی مدارس اسلام کے قلعے 


دینی مدارس اسلام کے وہ مضبوط قلعے ہیں جنہوں نے صدیوں سے دینِ اسلام کی حفاظت، ترویج اور اشاعت کا عظیم فریضہ سرانجام دیا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں جب بھی دین کو فکری یلغاروں، تہذیبی حملوں اور معاشرتی انحطاط کا سامنا ہوا تو انہی مدارس نے اسلام کی اصل روح کو محفوظ رکھنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ ادارے محض تعلیمی مراکز نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور کردار سازی کی ایسی درسگاہیں ہیں جہاں سے ایسے افراد تیار ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کو دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ مدارس کا نظام دراصل اسلام کی علمی روایت کا تسلسل ہے۔ ابتدائی زمانے میں مساجد ہی علم کے مراکز تھیں جہاں قرآن، حدیث اور فقہ کی تعلیم دی جاتی تھی۔ بعد ازاں یہی نظام باقاعدہ مدارس کی شکل اختیار کر گیا۔ ان اداروں نے نہ صرف اسلامی علوم کو محفوظ کیا بلکہ انہیں آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا عظیم فریضہ بھی انجام دیا۔ اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو شاید دین کی بہت سی علمی روایات وقت کی گرد میں گم ہو جاتیں۔دینی مدارس کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن و حدیث کی تعلیم کو زندہ رکھنا ہے۔ یہاں طلبہ نہ صرف قرآن مجید حفظ کرتے ہیں بلکہ اس کے مفاہیم اور احکام کو بھی سمجھتے ہیں۔ اسی طرح حدیثِ نبویؐ، فقہ، تفسیر اور دیگر اسلامی علوم کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اس تعلیم کا مقصد صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ ایسی شخصیات تیار کرنا ہے جو دین کی حقیقی نمائندگی کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس سے فارغ ہونے والے علما معاشرے میں دین کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔دینی مدارس کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ ادارے کردار سازی پر خصوصی توجہ دیتے ہیں۔ یہاں طلبہ کو سادگی، تقویٰ، اخلاص اور خدمتِ خلق کا درس دیا جاتا ہے۔ انہیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ علم صرف کتابوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا اثر انسان کے کردار اور رویوں میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ مدارس کے فارغ التحصیل افراد عام طور پر سادہ زندگی اور اعلیٰ اخلاق کا نمونہ ہوتے ہیں۔معاشرے میں دینی مدارس کی خدمات بہت وسیع ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف دینی تعلیم فراہم کرتے ہیں بلکہ مساجد، مدارس اور مذہبی مراکز کے ذریعے لوگوں کی روحانی تربیت بھی کرتے ہیں۔ علما جمعہ کے خطبات، دینی اجتماعات اور اصلاحی بیانات کے ذریعے معاشرے کو نیکی، عدل اور اخلاق کی طرف بلاتے ہیں۔ اس طرح مدارس معاشرتی اصلاح میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔بدقسمتی سے بعض اوقات دینی مدارس کے بارے میں غلط فہمیاں پیدا کر دی جاتی ہیں۔ کچھ لوگ ان اداروں کو محدود نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کی خدمات کو نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مدارس نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود لاکھوں طلبہ کو تعلیم دی ہے اور دین کی خدمت کا عظیم فریضہ انجام دیا ہے۔ ان اداروں کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہاں تعلیم زیادہ تر بلا معاوضہ فراہم کی جاتی ہے اور غریب طلبہ کو بھی علم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے۔آج کے دور میں اگرچہ حالات بدل چکے ہیں اور نئے تقاضے سامنے آ رہے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ دینی مدارس اپنی روایتی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تقاضوں کو بھی مدنظر رکھیں۔ دینی علوم کے ساتھ بنیادی عصری علوم کی شمولیت طلبہ کو مزید مؤثر بنا سکتی ہے تاکہ وہ دین کی تعلیمات کو جدید دنیا کے مسائل کے تناظر میں بہتر انداز سے پیش کر سکیں۔ اس طرح مدارس کا کردار مزید مضبوط اور مؤثر ہو سکتا ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دینی مدارس اسلام کے مضبوط قلعے ہیں۔ یہ قلعے صرف اینٹوں اور دیواروں سے نہیں بلکہ علم، ایمان اور اخلاص کی بنیادوں پر قائم ہیں۔ جب تک یہ ادارے قائم رہیں گے دین کی روشنی بھی قائم رہے گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ معاشرہ ان مدارس کی قدر کرے، ان کی خدمات کو تسلیم کرے اور انہیں مضبوط بنانے میں اپنا کردار ادا کرے۔دینی مدارس دراصل اس چراغ کی مانند ہیں جو صدیوں سے دین کی روشنی کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔ اگر یہ چراغ بجھ جائے تو معاشرہ روحانی تاریکی کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ان اداروں کی اہمیت کو سمجھیں اور انہیں مضبوط بنانے کے لیے سنجیدہ کوشش کریں۔ یہی ادارے آنے والی نسلوں کو دین کی حقیقی تعلیمات سے روشناس کراتے ہیں اور انہیں ایک بااخلاق اور باکردار انسان بننے کی تربیت دیتے ہیں۔ اسی لیے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ دینی مدارس اسلام کے وہ قلعے ہیں جو دین کی حفاظت، علم کی بقا اور اخلاقی اقدار کے فروغ کے لیے ہمیشہ قائم رہیں گے۔

Share Post
روزنامہ عوامی درشن ایپ انسٹال کریں Google Play App Store
آج کے دیگر کالمز