آہ! پروفیسر نذیر احمد مجاہد
کچھ لوگ اپنی موجودگی میں بھی روشنی ہوتے ہیں اور اپنی جدائی کے بعد بھی چراغوں کی طرح یاد آتے رہتے ہیں۔ آج دل انتہائی رنج و الم سے بوجھل ہے کیونکہ ہمارے نہایت عزیز دوست، علم و ادب کے دلدادہ، مثبت صحافت کے علمبردار اور سماجی شعور رکھنے والی شخصیت پروفیسر نذیر احمد مجاہد مختصر علالت کے بعد اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں۔ ان کی ناگہانی رحلت نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ پورے علاقے کے علمی، ادبی اور سماجی حلقوں کو سوگوار کر دیا ہے۔پروفیسر نذیر احمد مجاہد ان لوگوں میں شامل تھے جو اپنی زندگی محض گزارنے کے لیے نہیں بلکہ معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے جیتے ہیں۔ وہ پنجاب کالج حجرہ شاہ مقیم میں بطور استاد خدمات انجام دے رہے تھے۔ تدریس ان کے نزدیک صرف ایک ملازمت نہیں بلکہ ایک مشن تھا۔ وہ اپنے شاگردوں کو صرف نصابی اسباق نہیں پڑھاتے تھے بلکہ انہیں شعور، اخلاق اور ذمہ دار شہری بننے کا درس بھی دیتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے شاگرد انہیں محض استاد نہیں بلکہ ایک مخلص رہنما کے طور پر یاد کرتے ہیں۔ تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی لگن اس قدر تھی کہ تدریسی فرائض کے ساتھ ساتھ وہ نوجوانوں کی علمی رہنمائی کے لیے اعلیٰ معیار کی ٹیوشنز بھی دیتے رہے۔ بے شمار طلبہ ان کی محنت اور خلوص کے باعث اپنی تعلیمی منزلیں طے کرنے میں کامیاب ہوئے۔پروفیسر نذیر احمد مجاہد کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کا ادبی و شاعرانہ ذوق تھا۔ شعر و ادب سے ان کی وابستگی گہری اور دیرینہ تھی۔ وہ حجرہ شاہ مقیم کی معروف ادبی تنظیم انجمن اربابِ ذوق کے سرگرم رکن تھے اور مقامی مشاعروں میں ان کی شرکت ادبی محفلوں کو ایک خاص رنگ بخش دیتی تھی۔ وہ نہ صرف اپنا کلام پیش کرتے بلکہ ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے بھی سرگرم کردار ادا کرتے تھے۔وقت کے ساتھ انہوں نے صحافت کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ ان کا یقین تھا کہ صحافت اگر ذمہ داری اور دیانت کے ساتھ کی جائے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی لا سکتی ہے۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے یونین آف جرنلسٹس کے نام سے ایک تنظیم قائم کی اور تعمیری صحافت کے فروغ کے لیے عملی کوششیں کیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے یوٹیوب پر “مجاہد ٹاک” کے نام سے ایک چینل قائم کیا جس کے ذریعے وہ علاقے کے مسائل، سماجی موضوعات اور عوامی امور پر مثبت اور بامقصد گفتگو کو فروغ دیتے رہے۔ وہ مجاہد نامہ کے عنوان سے ڈیڑھ درجن کے قریب اخبارات میں کالم بھی لکھتے تھے جن میں معاشرے کے سلگتے ہوئے مسائل کو موضوع بنایا جاتا۔ ان کا قلم بیک وقت نشتر بھی تھا اور مرہم بھی۔ وہ معاشرے کے ناسوروں کا پوسٹ مارٹم ہی نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا علاج بھی تجویز کرتے تھے۔پروفیسر نذیر احمد مجاہد ایک متحرک سماجی کارکن بھی تھے۔ مختلف سماجی تنظیموں کے ساتھ وابستہ رہتے ہوئے وہ عوامی مسائل کے حل کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے۔ لوگوں کے مسائل کو متعلقہ اداروں تک پہنچانا اور ان کے حل کے لیے آواز بلند کرنا ان کی شخصیت کا نمایاں وصف تھا۔ اسی خدمت کے جذبے کے تحت وہ گڈ وشرز پاکستان کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیٹر ضلع اوکاڑا بھی تھے اور “سرسبز پاکستان” کے سلوگن کے تحت ملک بھر میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی مہم کا حصہ بنے ہوئے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ ایک درخت لگانا دراصل آنے والی نسلوں کے لیے زندگی کا تحفہ چھوڑنے کے مترادف ہے۔ان کی علمی دلچسپیوں کا ایک اہم مظہر یہ بھی تھا کہ وہ حجرہ شاہ مقیم سمیت پورے علاقے کی تاریخ پر ایک کتاب مرتب کر رہے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے بڑی محنت اور عرق ریزی سے تاریخی شواہد جمع کیے تھے۔افسوس کہ زندگی نے انہیں اس علمی کام کو مکمل کرنے کی مہلت نہ دی مگر یقیناً یہ کاوش ان کی علمی یادگار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ان کی وفات کا سب سے دلخراش پہلو یہ ہے کہ وہ ابھی جواں سال تھے۔ ان کے ننھے بچے، جن کی عمریں تقریباً پانچ یا چھ برس کے لگ بھگ ہیں، باپ کی شفقت سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ خیال دل کو مزید بوجھل کر دیتا ہے کہ ایک محبت کرنے والا باپ اور ایک مخلص انسان اچانک اپنے پیاروں کو چھوڑ کر چلا گیا۔پروفیسر نذیر احمد مجاہد کی رحلت دراصل ایک ایسے انسان کی جدائی ہے جو علم، ادب، صحافت اور سماجی خدمت کے میدانوں میں روشنی بانٹتا رہا۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر بچھڑ جاتے ہیں مگر اپنی یادوں، اپنے شاگردوں اور اپنے کاموں کی صورت ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ آج جب ہم ان کی جدائی پر غمگین ہیں تو دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔ شاید یہی کسی انسان کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ وہ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی دلوں میں زندہ رہے۔ ان کی اچانک جدائی نے دلوں کو سوگوار کر دیا ہے۔ یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ ایک باصلاحیت، مخلص اور دردِ دل رکھنے والا انسان ہم سے بچھڑ گیا۔ان کے جنازے میں نہ صرف اپنے شہر بلکہ دور و نزدیک کے شہروں اور دیہات سے لوگوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ ہر دل غمزدہ تھا۔ فضا سوگوار تھی۔ یہ مناظر اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں زندہ تھے۔ ان کی جواں عمر وفات ادبی، سماجی، علمی اور صحافتی حلقوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں، جو علم بھی دیتے ہیں، شعور بھی، اور امید بھی۔ یقیناً ان کی علمی، ادبی، صحافتی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ قدر و احترام سے یاد رکھا جائے گا۔“کچھ لوگ رخصت ہو کر بھی دلوں سے نہیں جاتے، وہ کردار بن کر زندہ رہتے ہیں۔”