پٹرولیم قیمتوں کے اثرات سے شہر میں ترقیاتی کام سست روی کا شکار
کنٹریکٹرز نئے ریٹس نہ ملنے پر کام روکنے یا رفتار کم کرنے پر مجبور ، مثالی گائوں پروگرام کیلئے تخمینہ ریٹ بڑھانے کی درخواستیں
لاہور (شیخ زین العابدین،عمران اکبر)پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے اثرات اب لاہور کے گلی محلوں تک پہنچ گئے جہاں ترقیاتی کام سست روی کا شکار ہو رہے ہیں۔میگا پراجیکٹس تو جاری ہیں مگر چھوٹے منصوبے غیر یقینی صورتحال میں پھنس گئے ۔کنٹریکٹرز نئے ریٹس نہ ملنے پر کام روکنے یا رفتار کم کرنے پر مجبور ہیں۔شہری علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہونے لگی ۔ذرائع کے مطابق پٹرولیم قیمتوں میں حالیہ اضافے سے لاہور میں چھوٹے منصوبے خاص طور پر سیوریج اور واٹر سپلائی سکیمیں متاثر ہو رہی ہیں۔لاہور ڈویلپمنٹ پروگرام فیز ٹو کے تحت جاری کاموں کی رفتار کم ہو چکی ہے ، کنٹریکٹرز نئے مالی تخمینوں اور ریٹس کے انتظار میں ہیں۔بائی اینول اور ایم آر ایس ریٹس تاحال جاری نہ ہونے سے ٹھیکیدار اضافی لاگت برداشت کرنے سے گریزاں ہیں جبکہ ادائیگیوں بارے خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔گلی محلوں میں ٹف ٹائلز، آر سی سی و دیگر تعمیراتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
کنسٹرکشن میٹریل کے نرخ واضح نہ ہونے سے سامان کی ترسیل میں بھی رکاوٹ آ رہی ہے ۔شہر کے مختلف علاقوں رائیونڈ روڈ، شالیمار ٹاؤن، واہگہ ٹاؤن، علامہ اقبال ٹاؤن، سمن آباد اور پکی ٹھٹھی میں ترقیاتی کاموں کی رفتار نمایاں کم ہو چکی ہے ۔ صوبہ بھر میں وزیراعلیٰ مثالی گائوں پروگرام کے تحت 485دیہات اور فیز ٹو لاہور کے اربوں مالیت کے جاری ترقیاتی کاموں پر بھی ڈیزل کی سو فیصد قیمتیں بڑھنے کے اثرات پیدا ہوناشروع ہو گئے ۔ذرائع کے مطابق نجی کمپنیز نے صوبے کی لوکل گورنمنٹس اور 41ڈپٹی کمشنرز کو کنٹریکٹ ایوارڈ میں فنڈزبارے درخواستیں جمع کروا دیں جبکہ ٹینڈرز ورک آرڈر ایوارڈ میں بحران سے نمٹنے کی شرائط طے نہ کی گئیں ،موجودہ صورتحال میں ریلیف کیسے فراہم کیا جائے ،فنڈز کی جانچ پڑتال پر کام جاری ،کنٹریکٹرز نے 302 دیہات میں ذمہ داریاں سنبھال کر بحرانی صورتحال سے آگاہ کیا ،22 ہزار 986 دیہات میں 41 ہزار چھپڑوں کی موجودگی کا تخمینہ لگایاگیا، دیہی چھپڑوں کی بحالی کے ساتھ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کے تخمینہ ریٹس بڑھانے کی درخواستیں ، صوبہ بھر میں نئی شرائط کیلئے افسروں کی کمیٹیاں قائم کر دی گئیں ،افسر ریلیف کیلئے دو روز میں کیبنٹ کمیٹی کو خط لکھیں گے جبکہ جاری ترقیاتی سکیموں کیلئے اربوں کے فنڈز مانگے گئے ہیں۔ 485 دیہات میں گلیوں، ڈرینز، پارکس کی منظوری دی گئی ہے ۔200 دیہات میں واٹر سکیمیں اگلے مرحلے میں شامل ہونگی۔
