کرپشن کیسز: سیشن عدالتوں کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دینے کا اختیار نہیں، لاہور ہائیکورٹ
لاہور لاہور ہائیکورٹ نے جسٹس آف پیس کا دوبارہ انکوائری اور براہ راست مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
جسٹس عبہر گل خان نے خاتون آصفہ بی بی کی درخواست پر 8 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے کہا ہے کہ اینٹی کرپشن کے متعلقہ کیسز میں سیشن عدالتوں کو براہ راست مقدمات درج کرنے کا حکم دینے کا اختیار نہیں ہے۔
عدالت نے طلاق کے جعلی دستاویزات بنانے کے الزام میں اینٹی کرپشن کو براہ راست مقدمہ درج کرنے کا ٹرائل کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
تحریری فیصلہ میں مزید لکھا گیا رولز کے مطابق دوبارہ انکوائری کی ہدایت اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے قانونی دائرہ میں مداخلت ہے، جسٹس اف پیس کی ہدایت پر ایک بار انکوئرئ مکمل ہوجائے تو ری اوپن کا اختیار نہیں ہے، سیشن عدالت صرف اینٹی کرپشن حکام کو ملزمان کے خلاف انکوائری شروع کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے براہِ راست ملزمان پر ایف آئی آر درج کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔
پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ رولز کے تحت، جہاں الزامات ثابت نہ ہوں، وہاں تفتیش کو متعلقہ اتھارٹی کی جانب سے ختم کیا جانا چاہیے، ریکارڈ کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج نے کہا کہ اگر تفتیشی افسر نے تفتیش میں غفلت یا جان بوجھ کر کوتاہی کی ہو تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کریں جبکہ قانون کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج کو سرکاری ملازمین کے خلاف بدعنوانی کے الزامات میں ہدایات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔
یہ اختیار صرف پنجاب اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کے پاس مخصوص قوانین کے تحت ہے۔
