جناح ہسپتال:بدانتظامی،ادویات کی قلت،سینئر ڈاکٹرز غائب
لاہور(سجاد کاظمی سے )جناح ہسپتال لاہور میں بدانتظامی، ناقص صفائی اور سینئر ڈاکٹروں کی عدم موجودگی جیسے سنگین مسائل بے نقاب ہو گئے ، محکمہ صحت کی ٹیم کے اچانک سروے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کر دیا گیا۔ پروفیسر ز کے دفاتر کو تالے ، ایمرجنسی اور آؤٹ ڈور میں ادویات کی قلت کے حوالے سے دنیا نیوز نے جاری رپورٹ حاصل کرلی۔تفصیلات کے مطابق ایمرجنسی فارمیسی میں ادویات غیر منظم تھیں اور مریضوں کو باہر سے دوائیں لکھنے کا انکشاف ہوا۔ او پی ڈی اور ایمرجنسی میں سینئر ڈاکٹرز کی عدم موجودگی جبکہ جونیئر ڈاکٹرز کے سہارے نظام چلتا پایا گیا۔ہسپتال کے آؤٹ ڈور اور وارڈز میں پروفیسرز کے کمرے بند ملے ، جس کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ دورے کے دوران کیو مینجمنٹ سسٹم مکمل طور پر غیر فعال پایا گیا جبکہ ایمرجنسی میں سٹریچرز بغیر گدوں کے اور وہیل چیئر کاؤنٹر پر عملہ غائب تھا۔محکمہ صحت کے سروے میں صفائی کے ناقص انتظامات بھی کھل کر سامنے آئے ، ہسپتال کے فرش پر خون کے دھبے موجود تھے جبکہ صفائی عملہ صبح دس بجے کے بعد غائب پایا گیا۔ راہداریوں اور واش رومز کی حالت بھی انتہائی خراب تھی۔دوسری جانب ڈینگی وارڈ مریضوں سے خالی ہونے کے باوجود پانی کے ضیاع کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے بعد محکمہ صحت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے چار ایڈیشنل اور ڈپٹی ایم ایس کو ناقص کارکردگی پر عہدوں سے ہٹا دیا جبکہ متعدد ڈاکٹرز کے تبادلے بھی کر دیے گئے ۔ڈاکٹر کمال مصطفی کو شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان، ڈاکٹر جویریا امین اور ڈاکٹر کنول زیدی کو گوجرانوالہ میڈیکل کالج ٹیچنگ ہسپتال جبکہ ڈاکٹر حماد انور چیمہ کو نشتر ٹو ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
