اخبار کی شہ سرخیاں
تاریخ اشاعت: April 18, 2026

امریکی ناکہ بندی برقرار: ایران نے آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی لگا دی

 امریکی ناکہ بندی برقرار: ایران نے آبنائے ہرمز پر دوبارہ پابندی لگا دی


تہران: (ویب ڈیسک) ایران کے پاسداران انقلاب نے امریکا پر ناکہ بندی کے نام پر بحری قزاقی کا الزام لگاتے ہوئے آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی۔

ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے کا نظام دوبارہ سخت فوجی کنٹرول میں آ گیا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا پریس ٹی وی کے مطابق ترجمان نے اس اقدام کی وجہ امریکہ کی بار بار خلاف ورزیوں اور ناکہ بندی کے نام پر سمندری ڈاکہ زنی کو قرار دیا اور کہا کہ ایران نے معاہدوں کے تحت محدود تعداد میں جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔

ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، لہٰذا اب آبنائے ہرمز دوبارہ بند کر دی گئی ہے اور گزرنے کے لیے ایران کی اجازت درکار ہوگی، جب تک امریکا جہازوں کی آمدورفت کو پوری آزادی کے ساتھ بحال نہیں کرتا اس وقت تک آبنائے ہرمز کی نگرانی سخت رہے گی۔

ایران کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کی جانب سے ایک بیان سامنے آیا ہے جس میں آبنائے کی موجودہ صورتحال پر ایران کا مؤقف بیان کیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے بحری نظام کی پابندی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس نئے نظام کے تحت صرف وہی تجارتی جہاز مخصوص راستوں سے گزر سکیں گے جنہیں اسلامی انقلابی گارڈ کور نیوی کی جانب سے اجازت حاصل ہوگی اور مطلوبہ فیس ادا کی گئی ہوگی۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا ایرانی جہازوں کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس صورتحال کو بآسانی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ آبی راستے کی بحالی سے حصص بازاروں میں تیزی آئی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں دیکھنے میں آئی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امن معاہدہ بہت قریب ہے اور یہ کہ ایران اپنا افزودہ یورینیم امریکہ کے حوالے کرنے پر رضامند ہو گیا ہے جو مذاکرات میں ایک اہم رکاوٹ تھی جبکہ ایران نے اس دعوے کی بھی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس کے افزودہ یورینیم کا ذخیرہ کہیں نہیں جا رہا۔

قبل ازیں ایران نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکی جنگی بحری جہازوں نے ایرانی بندرگاہوں سے جانے والے بحری جہازوں کو روکا تو آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

پارلیمانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر لکھاکہ ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلی نہیں رہے گی، اس آبی گزرگاہ سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت درکار ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر نے ایک گھنٹے میں سات دعوے کیے، جو سارے جھوٹے تھے، ان جھوٹوں سے جنگ نہیں جیتی اور یقینی طور پر مذاکرات میں بھی انہیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، ناکہ بندی جاری رہنے کی صورت میں آبنائے ہرمز کھلا نہیں رہے گا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کا کھلنا اور بند ہونا انٹرنیٹ پر نہیں ہوتا، اس کا فیصلہ میدان میں کیا جاتا ہے اور ہماری مسلح افواج یقینی طور پر جانتی ہیں کہ دوسرے فریق کی کسی بھی کارروائی کے جواب میں کیسا برتاؤ کرنا ہے۔‘

بقائی نے کہا کہ جسے وہ بحری ناکہ بندی کہتے ہیں ایران کی جانب سے یقینی طور پر اس کا مناسب جواب دیا جائے گا، بحری ناکہ بندی جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے اور ایران یقینی طور پر ضروری اقدامات کرے گا۔

ایرانی وزارتِ دفاع کے مطابق آبنائے ہرمز میں آمدورفت حملے نہ کرنے سے مشروط ہے اور اس اہم تجارتی گزرگاہ تک رسائی کا انحصار جنگ بندی کی موجودہ صورتحال پر ہے۔

وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلائی نیک نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمزصرف جنگ بندی کی صورت میں ہی کھلی رہے گی، فوجی جہازوں اور دشمن قوتوں سے وابستہ بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال عارضی ہے اور اگر زمینی حالات، خصوصاً لبنان سے متعلق صورتحال میں تبدیلی آتی ہے تو اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ بند کیا جا سکتا ہے۔

Share Post
روزنامہ عوامی درشن ایپ انسٹال کریں Google Play App Store
آج کے دیگر کالمز