کالمز
تاریخ اشاعت: April 09, 2026

نوآبادیات سے رجیم چینج تک: مغرب کا عالمی اقتدار کی کہانی تسلسل میں یا تناؤ میں

نوآبادیات سے رجیم چینج تک: مغرب کا عالمی اقتدار کی کہانی تسلسل میں یا تناؤ میں



عالمی سیاست ایک واضح رجحان کو ظاہر کرتی ہے ۔ جس کا  16 صدی میں یورپ میں کالو نائزیشن کے ذریعے آغاز ہوا۔ اور بعدآزاں 19 صدی میں یوروپ کی ہی ایک سابقہ کالونی امریکہ نے اپنی خارجہ پالیسی کا بقائدہ حصہ بناتے ہوۓ اپنی نہ صرف سرحدیں پھیلائیں بلکہ سرحدپار اپنا اثررثوخ بھی بڑھایا: کمزور اور حالیہ آزاد ممالک کی سیاسی سمت کا تعین کرنا اور ان کے ہاں ایسے لوگوں کو اوپر لانا جو ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوں۔ رضا شاہ پہلوی جیسی شخصیات کو اکثر نمایاں کیا جاتا ہے، لیکن وہ دراصل ایک وسیع نظام کا حصہ تھیں جہاں بیرونی اثر و رسوخ اندرونی معاملات پر حاوی تھا۔ سرد جنگ سے پہلے مملکتِ ہوائی کا تختہ 1893 میںالٹنا اور پانامہ کی کولمبیا سے1903 میں علیحدگی جیسے واقعات اس بات کی مثال ہیں کہ کس طرح تزویراتی مفادات نے سیاسی حقائق کو شکل دی۔ یہ عمل یورپی نوآبادیاتی دور سے ایک نئے عالمی نظام کی طرف منتقلی کی علامت تھا، جس میں امریکہ کا کردار بڑھتا گیا۔ روایتی نوآبادیات کی جگہ "رجیم چینج" نے لے لی، جسے عدم استحکام، سلامتی کے خدشات یا نظریاتی اختلافات کے نام پر جائز ٹھہرایا گیا۔ مگر حقیقت میں اس کے پیچھے تزویراتی اور معاشی مفادات کارفرما رہے۔


حالیہ تاریخ اس تسلسل کو مزید واضح کرتی ہے۔ افغانستان، اس کے بعد عراق  اور اس کے بعد لیبیا اور اس کے بعد شام میں مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ پالیسی آج بھی جاری ہے۔ اگرچہ انہیں ضروری قرار دیا گیا، مگر نتائج میں عدم استحکام اور کمزور ریاستی عالمی منظرنامے میں اس نظام کے تضادات نمایاں ہو رہے ہیں۔اب ایران کو ہی لے لیجئے۔ ایک طرف یوایس ایس جیرالڈفورڈ جیسے فوجی اثاثوں کی نقل و حرکت حکمتِ عملی میں تبدیلی کا اشارہ دیتی ہے، جبکہ دوسری طرف 3 ہفتوں کی جنگ کا 6 ہفتے تک چلے جانا تنازعات اور تباہی کا طویل ہوجانا یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حالات توقعات سے زیادہ پیچیدہ ہیں۔


سیاسی قیادت بھی اس بیانیے کو متاثر کرتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جیسے رہنما اکثر پالیسی اور اندازِ پیشکش کے درمیان فرق کو کم کر دیتے ہیں، جبکہ مخالف قوتیں براہِ راست امریکی عوام سے بات کر کے مداخلتی پالیسیوں کو چیلنج کر رہی ہیں۔ معاشی پہلو بھی اہم ہے۔ امریکہ کا بیرونی قرضہ 38 کھرب سے 48 کھرب تک بڑھ جانا اس پالیسی کی پائیداری پر سوال اٹھارہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایران کا ابناۓ ہرمز نہ صرف مستقل بند رکھنا بلکہ مستقبل میں اس گزرگاہ سے ٹول حاصل کرنے کا عندیہ دینااس سمت اشارہ ہے کہ عالمی اثر و رسوخ برقرار رکھنے کے لیے مسلسل مداخلت اب زیادہ مشکل دکھائی دیتی ہے۔جن کارروائیوں کو مختصر سمجھا گیا، وہ اکثر طویل ہو گئیں۔ اس سے وسائل پر دباؤ بڑھا، ساکھ متاثر ہوئی، اور نظام کی تبدیلی حکمتِ عملی کی کمزوریاں سامنے آئیں۔


اس بدلتے ماحول میں بیرونی مداخلت کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔ یہ ایک ممکنہ موڑ کی نشاندہی کرتا ہے جہاں   " رجیم چینج " کا ماڈل چیلنج ہو رہا ہے اور عالمی نظام میں تبدیلی کے آثار نمایاں ہیں۔


Share Post
روزنامہ عوامی درشن ایپ انسٹال کریں Google Play App Store
آج کے دیگر کالمز