![]() |
ضلع بھکر میں گڈولہ دریا خان روڈ پر سوشل میڈیا اور ٹک ٹاک پر ہونے والا ایک معمولی تنازع ہولناک خونی تصادم کی شکل اختیار کر گیا۔ فریقین کے مابین پہلے سڑک پر اور بعد ازاں ہسپتال کے اندر ہونے والی اندھا دھند فائرنگ اور چھریوں کے وار کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق اور ایک عام مریض سمیت متعدد افراد شدید زخمی ہو گئے۔ افسوسناک واقعہ تھانہ صدر بھکر کی حدود میں پیش آیا۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (DPO) بھکر، شہزاد رفیق اعوان کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ نوجوانوں کے دو گروپوں کے درمیان سوشل میڈیا پوسٹس پر تلخ کلامی ہوئی تھی، جو گڈولہ دریا خان روڈ پر مسلح تصادم میں بدل گئی۔ابتدائی ہلاکتیں: فریقین کے درمیان فائرنگ کے شدید تبادلے میں دونوں جانب سے ایک ایک نوجوان جاں بحق ہوا، جن کی شناخت شیراز اور زوہیب کے نام سے ہوئی ہے۔زخمیوں کی منتقلی: اس پہلے تصادم میں 5 افراد شدید زخمی ہوئے، جنہیں ریسکیو اہلکاروں نے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر (DHQ) ہسپتال منتقل کیا۔خوف و ہراس کا اصل ڈرامہ اس وقت رقم ہوا جب دونوں گروپوں کے حامیوں کی بڑی تعداد ڈی ایچ کیو ہسپتال پہنچ گئی۔ ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (MS) ڈاکٹر ہارون طاہر کے مطابق:گیلری میں لڑائی: فریقین کے مسلح حامیوں کا سامنا ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ کی گیلری میں ہوا، جہاں انہوں نے ایک دوسرے پر چھریوں کے پے در پے وار کیے، جس سے مزید افراد زخمی ہو گئے۔وارڈ کے اندر قتل: مشتعل افراد نے قانون کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ کے اندر گھس کر اندھا دھند فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں پہلی لڑائی کا ایک زیرِ علاج زخمی وارڈ کے اندر ہی گولیوں کا نشانہ بن کر دم توڑ گیا۔ام مریض کا زخمی ہونا: اس بے ہنگم فائرنگ کی زد میں آکر ہسپتال میں موجود ایک عام مریض بھی شدید زخمی ہو گیا، جس سے ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل اسٹاف اور دیگر مریضوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا۔ہسپتال کے اندر جنگ کا میدان بننے اور انتہائی کشیدہ صورتحال کے باعث انتظامیہ نے ہسپتال کی ایمرجنسی کو عارضی طور پر بند کر دیا، تاہم بعد میں پولیس نفری کی آمد اور حالات قابو میں آنے پر اسے دوبارہ بحال کر کے زخمیوں کا علاج شروع کیا گیا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او بھکر شہزاد رفیق اعوان بھاری پولیس نفری کے ہمراہ فوری طور پر ہسپتال پہنچے اور صورتحال کو براہِ راست کنٹرول کیا۔ انہوں نے زخمیوں کی عیادت کی اور ڈاکٹروں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے: ڈی پی او کا کہنا تھا کہ پولیس نے بروقت رسپانس دے کر مزید نقصان سے بچایا۔ واقعے میں ملوث ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر کے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور انہیں جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔شہریوں سے اپیل: انہوں نے نوجوانوں اور شہریوں سے پرزور اپیل کی کہ سوشل میڈیا کے معمولی تنازعات پر آپے سے باہر ہونے کے بجائے برداشت، تحمل اور قانون کا دائرہ اختیار برقرار رکھا جائےتھانہ صدر پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے۔ علاقے میں تاحال پھیلی شدید کشیدگی اور دوبارہ تصادم کے خطرے کے پیشِ نظر، مقتولین کی نمازِ جنازہ کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ دونوں فریقین کے گھروں کے باہر بھی سیکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔
