حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے تمام مستحقین کو رواں سال ڈیجیٹل والٹس فراہم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے ذریعے وہ رقم وصول کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ڈیجیٹل سہولیات سے بھی فائدہ اٹھا سکیں گے۔
وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے زیڈ والٹ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کے لیے حکومت، سرکاری اور نجی شعبہ مل کر اقدامات کر رہے ہیں، جبکہ بی آئی ایس پی کے تمام مستحقین کو ڈیجیٹل والٹس کی سہولت دی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں راست (Raast) نے اہم کردار ادا کیا ہے اور حکومت اس نظام کو مزید آسان اور عوام دوست بنانے پر کام کر رہی ہے۔
وزیر مملکت کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت استعمال کرنے والے تاجروں کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ ڈیجیٹل بینکنگ صارفین کی تعداد 13 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔
بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگیوں کے فروغ کے لیے حکومت نے مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (MDR) پر سبسڈی فراہم کی ہے، جبکہ سرکاری ادائیگیوں کی ڈیجیٹلائزیشن میں بھی نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی شرح 9 فیصد سے بڑھ کر 76 فیصد جبکہ سیلف اکاؤنٹنگ اداروں میں یہ شرح 5 فیصد سے بڑھ کر 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
وزیر مملکت نے بتایا کہ بی آئی ایس پی کے ایک کروڑ سے زائد مستحقین کو پہلے ہی ڈیجیٹل طریقے سے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں، جبکہ نئے ڈیجیٹل والٹس بینک اکاؤنٹ کی طرح استعمال کیے جا سکیں گے۔
ان ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے مستحقین یوٹیلیٹی بلز کی ادائیگی، رقم کی منتقلی اور دیگر مالیاتی سہولیات سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ سرکاری ادائیگیوں کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کا مقصد مالی نظام میں شفافیت، آسانی اور مؤثریت کو بڑھانا ہے۔